30 نومبر 2015 - 12:11
سعودی بادشاہ اوباما پر مہربان

گزشتہ دنوں امریکی حکومت نے صدر اوباما کو سال 2014ء کے دوران بیرونی حکومتوں کی طرف سے ملنے والے تحائف کی فہرست جاری کی ہے، اس فہرست کے مطابق صدر اوباما کو سب سے مہنگے تحائف سعودی مملکت کی طرف سے دئیے گئے، جن کی کل مالیت 13 لاکھ امریکی ڈالر (تقریبا 13 کروڑ پاکستانی روپے) سے بھی زائد نکلی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ سعودی عرب بظاہر تو مسلم ممالک میں اسلام کا سب سے بڑا ٹھیکہ دار کہلانے میں خوشی محسوس کرتا ہے، تاہم آل سعود کی جانب سے ہمیشہ مسلم ممالک کیساتھ تعلقات کی بجائے امریکہ کو نہ صرف سب سے بہترین دوست قرار دیا گیا بلکہ ’’آقا‘‘ کا درجہ دیا گیا۔ یہ دوستی بعض اوقات تو اپنی حدوں کو چھوتی نظر آتی ہے، کبھی دونوں ممالک کے سربراہان رقص کرتے نظر آتے ہیں، کبھی مہہ کشی کرتے ہوئے تو کبھی عیاشی کی محافل میں۔ دونوں ممالک کے سربراہان کی جانب سے اکثر ایک دوسرے کو انتہائی نایاب اور مہنگے تحفوں سے بھی نوازا جاتا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما کبھی کسی غیر ملکی سربراہ کی طرف سے تحفے میں ملنے والی ٹوپی تو کبھی کوئی کتاب وصول کرتے پائے گئے ہیں، لیکن سعودی فرمانروا کی طرف سے ملنے والے تحائف کا معاملہ خاصا مختلف رہا ہے۔ گزشتہ دنوں امریکی حکومت نے صدر اوباما کو سال 2014ء کے دوران بیرونی حکومتوں کی طرف سے ملنے والے تحائف کی فہرست جاری کی ہے، اس فہرست کے مطابق صدر اوباما کو سب سے مہنگے تحائف سعودی مملکت کی طرف سے دئیے گئے، جن کی کل مالیت 13 لاکھ امریکی ڈالر (تقریبا 13 کروڑ پاکستانی روپے) سے بھی زائد نکلی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کو جتنی بھی مالیت کے تحائف ملے وہ انہیں مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادائیگی کر کے ہی لے سکتے ہیں، یا دوسری صورت میں وہ ان تحائف کو امریکی خزانے میں جمع کروانے کے پابند ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال صدر اوباما کو اتنی بڑی مالیت کے تحائف ملے ہیں کہ وہ انہیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ لہذا انہوں نے یہ تمام تحائف امریکی خزانے میں جمع کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے پہلے مشیل اوباما اور ان کی بیٹیوں کو ملنے والے انعامات تو بے حد مہنگے رہے ہیں، سابق سعودی فرمانروا کی طرف سے مشیل اوباما کو ہیروں سے جڑی ایک گھڑی دی گئی تھی، جس کی قیمت تقریبا چھ لاکھ ڈالر (تقریباً 6 کروڑ پاکستانی روپے) تھی۔

سعودی بادشاہوں کی امریکی حکمرانوں کیلئے اتنے مہنگے تحائف ایک جانب جہاں ان کی امریکی غلامی کی عکاسی کرتے ہیں تو دوسری جانب زبوں حالی کا شکار امت مسلمہ سے چشم پوشی کو ظاہر کرتا ہے، آل سعود کی امریکہ سے ان قربتوں کو ہمیشہ ملت اسلامیہ کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، تاہم سعودی حکمرانوں نے کبھی مسلم ممالک کی اس تنقید پر توجہ نہیں دی، اور ملت اسلامیہ کی بجائے ہمیشہ اپنے اور امریکی و مغربی مفادات کا تحفظ کیا۔ تاہم وقت کیساتھ آل سعود کی ان پالیسیوں سے امت مسلمہ آگاہ ہورہی ہے۔

.......

/169